Posts

Showing posts with the label ALLAMA MUHAMMAD IQBAL

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاۂ آئینہ ساز میں نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں....

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں دہقان تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں ملتا ہے کہاں خوشہٰ گندم کہ جلاؤں شاہین کا ہے گنبدشاہی پہ بسیرا کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں ہر داڑھی میں تنکا ہے،ہر ایک آنکھ میں شہتیر مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر توحید کی تلوارسے خالی ہیں نیامیں اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں شاہیں کا جہاں آج گرگس کا جہاں ہے ملتی ہوئی ملاّ سے مجاہد کی اذاں ہے مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے،لیکن دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈرہو وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے وہ سجدہ ...

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام اے ساقی! تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی! مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی! شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی! عشق کی تیغِ جگر دار اُڑا لی کس نے؟ عِلم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی! سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی! تو میری رات کو مہتاب سے نہ محروم رکھ ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی! علامہ اقبالؔ

" مستی کردار "

" مستی کردار " صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق افکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیدار وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار مرد قلندر علامہ اقبال