Posts

Showing posts with the label SHEHZAD QAIS

زخمِ امید بھر گیا کب کا

زخمِ امید بھر گیا کب کا قیس تو اپنے گھر گیا کب کا اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے ناصحو میں سدھر گیا کب کا آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں دل مری جان مر گیا کب کا آپ اک اور نیند لے لیجئے قافلہ کوچ کر گیا کب کا میرا فہرست سے نکال دو نام میں تو خود سے مُکر گیا کب کا

زخم کی بات نہ کر زخم تو بھر جاتا ہے

زخم کی بات نہ کر زخم تو بھر جاتا ہے تیر لہجے کا کلیجے میں اُتر جاتا ہے موج کی موت ہے ساحل کا نظر آ جانا شوق کترا کے کنارے سے گزر جاتا ہے شعبدہ کیسا دِکھایا ہے مسیحائی نے سانس چلتی ہے، بھلے آدمی مر جاتا ہے آنکھ نہ جھپکوں تو سب ناگ سمجھتے ہیں مجھے گر جھپک لوں تو یہ جیون یوں گزر جاتا ہے مندروں میں بھی دُعائیں تو سنی جاتی ہیں ! اشک بہہ جائیں جدھر، مولا اُدھر جاتا ہے حسن اَفزا ہوئی اشکوں کی سنہری برکھا پھول برسات میں جس طرح نکھر جاتا ہے غالباً تخت پہ جنات کا سایہ ہو گا! کچھ تو ہے ہر کوئی آتے ہی مکر جاتا ہے ’’ایسی‘‘ باتیں جو ’’اکیلے‘‘ میں نہ ’’دیوانہ‘‘ کرے بادشہ وہ بھرے دربار میں کر جاتا ہے گر نہ لکھوں میں قصیدہ تو ہے تلوار اَقرب سر بچا لوں تو مرا ذوقِ ہنر جاتا ہے قیس! گر آج ہیں زندہ تو جنوں زندہ باد! #سوچنے_والا تو اِس دور میں مر جاتا ہے

سیاہ زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال

Image
سیاہ زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال فُسُوں ، شباب ، شکارَن ، شراب ، رات گھنی جبیں: چراغ ، مقدر ، کشادہ ، دُھوپ ، سَحَر غُرُور ، قہر ، تعجب ، کمال ، نُور بھری پَلک: فسانہ ، شرارت ، حجاب ، تیر ، دُعا تمنا ، نیند ، اِشارہ ، خمار ، سخت تھکی نظر: غزال ، محبت ، نقاب ، جھیل ، اَجل سُرُور ، عشق ، تقدس ، فریبِ اَمر و نہی نفیس ناک: نزاکت ، صراط ، عدل ، بہار جمیل ، سُتواں ، معطر ، لطیف ، خوشبو رَچی گلابی گال: شَفَق ، سیب ، سرخی ، غازہ ، کنول طلسم ، چاہ ، بھنور ، ناز ، شرم ، نرم گِری دو لب: عقیق ، گُہر ، پنکھڑی ، شرابِ کُہن لذیذ ، نرم ، ملائم ، شریر ، بھیگی کلی نشیلی ٹھوڑی: تبسم ، ترازُو ، چاہِ ذَقن خمیدہ ، خنداں ، خجستہ ، خمار ، پتلی گلی گلا: صراحی ، نوا ، گیت ، سوز ، آہ ، اَثر ترنگ ، چیخ ، ترنم ، ترانہ ، سُر کی لڑی ہتھیلی: ریشمی ، نازُک ، مَلائی ، نرم ، لطیف حسین ، مرمریں ، صندل ، سفید ، دُودھ دُھلی کمر: خیال ، مٹکتی کلی ، لچکتا شباب کمان ، ٹوٹتی اَنگڑائی ، حشر ، جان کنی پری کے پاؤں: گلابی ، گداز ، رَقص پرست تڑپتی مچھلیاں ، محرابِ لب ، تھرکتی کلی شہزاد قیس