Posts

Showing posts with the label IBN E INSHAA

ہم گھوم چکے بستی بَن میں

ہم گھوم چکے بستی بَن میں اِک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو کوئی دِیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا رُوپ لٹاتا ہو جو سورج دُھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلاہے ہم کب تک پِیت کے دھوکے میں تم کب تک دُور جھروکے میں کب دید سے دل کو سیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو کیا جھگڑا سُود خسارے کا یہ کاج نہیں بخارے کا سَب سونا رُوپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے تم ایک مجھے بہتیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو ابنِ انشا

آج کے لیے بس یهی پوسٹ کافی هے.

Image
آج کے لیے بس یهی پوسٹ کافی هے... گھر میں داخل ہوتے ہی میری پہلی نظر چاچا انور پہ پڑی اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا۔ مجھے گلاسگو آئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ گھر سے دوری کا احساس شدید تھا اور سکاٹ لینڈ کی سردی اداسی کو مزید گہرا کر دیتی تھی۔ ایک نووارد طالبعلم کیلیے سستی رہائش ایک شدید مسلئہ ہوتی ہے اور میرا بھی یہ تیسرا گھر تھا۔ گھر میں چاچا عمر میں سب سے بڑا تھا اور میں سب سے چھوٹا۔ اسکے باوجود چاچے اور میری دوستی ہو گئی۔ چاچا کسی ہوٹل پر دن بھر برتن دھوتا تھا۔ اور پھر گھر آ کر یا تو پاکستان کچھ دیر فون کر لیتا تھا یا پھر گانے سنتا اور سگریٹ پھونکتا۔ بلاضرورت باہر جاتے اسے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ چاچے کو جب پتہ چلا کہ میں یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہا ہوں تو چاچے نے خوامخواہ میرا احترام بھی شروع کر دیا۔ چاچا عام اجڈ لوگوں کے طرح مجھے “تو”کے بجائے “تسی” کہ کر مخاطب کرتا اور کبھی کبھی اپنے ساتھ میرے لیے بھی روٹی بنا دیتا کہ “پیٹہ بریڈ” کھا کھا کر میں سوکھتا جاتا تھا۔ میں جب یونیورسٹی یا جاب سے واپس آتا تو چاچا بڑے پیار سے دو کپ چائے بناتا اور میرے ساتھ باتیں کرتا۔ سگریٹ کے ...

ہم لوگ برہمن پریم کے ،اک مومن اپنا یار

ہم لوگ برہمن پریم کے ،اک مومن اپنا یار ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا ہم چاکر پاک رسول کے صدیق عمر عثمان ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولےٰ پر قربان ہم مٹی ہیں جیلان کی اور باھو سے منسوب عاشق اصغر سلطان کے ہم طالب اور مطلوب ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان ہم شور نگر کی خاک ہیں اور کوٹ مٹھن کا دان ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور ناظر ہیں ناسوت ہم چشت بہشت کے میزباں اور پاک پتن کا گڑ ہم سارنگی کی تار ہیں اور طبلے کا ہیں پڑ ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقا کے خاص غلام ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین تم خاطر دین ہے راستہ ہم خاطر مرشد دین ہم لوگ ستارا وار ہیں ہم چاند کے صحبت دار تم آگ کو پوجو خوف میں ہم آگ کریں گلزار تم مکے کے مکار ہو تم طائف کے غدار ہم یثرب کے ایوب ہیں ہم حبشہ کے سردار ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم مسجد مندر غار ہم پاپی خاکی خاک ہیں ہم نار بھی ہیں اور نور ہم بوجھ...

دِل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو

دِل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو اِس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو اِک بھیک کے دونوں کاسے ہیں، اِک پیاس کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو، ہم ندیا ہیں تم ساگر ہو یہ دِل ہے کہ، جلتے سینے میں اِک درد کا پھوڑا الہڑ سا ناگپت رہے، نا پُھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو، کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں، تم چڑھتی رات کی چندرما ہم جاتے ہیں، تم آتے ہو، پھر مَیل کی صُورت کیونکر ہو اب حُسن کا رتبہ عالی ہے، اب حُسن سے صحرا خالی ہے چل بستی میں بنجارہ بن، چل نگری میں سوداگر ہو جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے، جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے وہ سونا ہے، وہ ہیرا ہے ! وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو اب انؔشا جی کو بلانا کیا ، اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دُھوپ اور چھایا ایک سے ہوں ، جب دن اور رات برابر ہو وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں، وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سُکھ کے سپنے کیا دیکھیں، جب دُکھ کا سُورج سر پر ہو ابن انشا

sab maya hai

sab maya hai , sab dhaltee phirtee chaya hai iss ishq mein hum nay jo khooya jo paya hai jo tum nay kaha hai, faiz nay jo farmaya hai sab maya hai haan gahay gaahay deed ke doulat haath aye ya aik woh lazat naam hai jiss ka ruswayee buss uss kay siwa tu jo bhi sawab kamaya hai sab maaya hai ik naam tu baqi rehta hai, gar jaan nahi jab daikh liya iss sooday mein nuqsaan nahi tab shama pay dainay jaan patanga aaya hai sab maaya hai maloom hmain sab qais miyaan ka qissa bhi sab aik say hain, yeah ranjha bhi, yeh insha bhi farhad bhi jo ik nahar se khood kay laya hai sab maya hai kiyon dard kay naamay likhtay likhtay raat karoo jis saat samandar par ke naar ke baat karoo uss naar say koi aik nay dhoka khaya hai ? sab maaya hai jis goori pay hum aik ghazal har shaam likhain tum jantay hoo – hum kiyonkar uss ka naam likhain dil uss ke chookhat chom kay wapis aaya hai sab maaya hai woh larki bhi jo chaand nagar ke raani thee woh jiss ke alhaar ankhoon mein hayraani thee aa uss nay bhi pay’g...

ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو

ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو جیسے جنگل میں رنگ و بُو لوگو ساعتِ چند کے مسافر سے کوئی دم اور گفتگو لوگو تھے تمہاری طرح کبھی ہم لوگ گھر ہمارے بھی تھے کبھو لوگو ایک منزل سے ہو کے آئے ہیں ایک منزل ہے رُوبُرو لوگو وقت ہوتا تو آرزو کرتے جانے کس شے کی آرزو لوگو تاب ہوتی تو جتسجُو کرتے اب تو مایوس جستجُو لوگو