کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے : _______________________________ کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا ____ کہ میں بے گانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن ____ تیری نیم باز آنکھیں اِنھیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا حیات چیختی پھرتی برہنہ سر _____ اور میں گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا مگر یہ ہو نہ سکا مگر یہ ہو نہ سکا ____ اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ____ ترا غم _____ تری جستجو بھی نہیں گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی جیسے اِسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں نہ کوئی جادۂ ____ منزل ____ نہ روشنی کا سراغ بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری اِنہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر میں جانتا ہوں مری ہم نفس ____ ...