Posts

Showing posts with the label SAHIR LUDHYANVI

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے : _______________________________ کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا ____ کہ میں بے گانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن ____ تیری نیم باز آنکھیں اِنھیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا حیات چیختی پھرتی برہنہ سر _____ اور میں گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا مگر یہ ہو نہ سکا مگر یہ ہو نہ سکا ____ اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ____ ترا غم _____ تری جستجو بھی نہیں گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی جیسے اِسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں نہ کوئی جادۂ ____ منزل ____ نہ روشنی کا سراغ بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری اِنہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر میں جانتا ہوں مری ہم نفس ____ ...

اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے میرے ماضی کو اندھیروں مین دبا رہنے دو میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں میروں امید کا حاصل، مری کاوش کا صلہ ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم خاکے اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں ان کو اپنانے کی خواہش، انہیں پانے کی طلب شوقِ بے کار سہی، سعئ غم انجام نہیں وہی گیسو، وہی نظریں، وہی عارض، وہی جسم میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں وہ کنول جن کو کبھی ان کے لئے کھلنا تھا ان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں ساحر لدھیانوی