Posts

Showing posts with the label Sad Poetry

ابھی ہیں خواب آنکھوں میں ،ابھی تعبیر زندہ ہے

ابھی ہیں خواب آنکھوں میں ،ابھی تعبیر زندہ ہے ابھی دل کے صنم خانے میں اِک تصویر زندہ ہے تڑپتا ہے دلِ وحشی ابھی غم کے شکنجے میں ابھی تو پنجہِ شہباز میں ،نخچیر زندہ ہے ترے الفاظ سوچوں بھی تو یاد آتے نہیں مجھ کو ترے لہجے سے جو دل پر لگا ،وہ تیر زندہ ہے سُخن آثار لمحوں کو جو پہچانا ،تو یہ جانا انہیں لمحوں میں لکھے لفظ کی تاثیر زندہ ہے جو دھڑکن بن کے دھڑکی ہے،نئی صدیوں کے سینے میں کُتب خانوں کے شیلفوں میں ،وہی تحریر زندہ ہے نہ کُچلو لفظ کی حُرمت کہ کل دنیا دُھائی دے مُصنف مر گیا ،اس کی مگر تقصیر زندہ ہے ابھی آہ و فغاں کی ریت ہے، اشعار میں جاری ابھی شعروسُخن کی وادیوں میں ،مؔیر زندہ ہے تماشا گاہِ دنیا میں کیا ،رقصِ جنوں برسوں مگر اب تک ہمارے پاؤں میں زنجیر زندہ ہے یہ دیمک وقت کی ساری کتابیں چاٹ لیتی ہے مگر اِک نسخہِ قُرآن کی توقیر زندہ ہے کوئی وُقعت ستارے کی نہیں ماہتاب کے آگے مقابل ہو اگر تقدیر ،کب تدبیر زندہ ہے سُنا جو شور و غوغا نصف شب ،تو ہنس کے فرمایا دمِ عشاق سے ہی نالہِ شب گیر زندہ ہے بجائے بانسری کے فون ہے رانجھے کے ہاتھوں میں ورق پر فیس بُک کے ،دورِ نَو کی ہیر زندہ ہے امانت ہے نئی ...

کہیں ملے تو اس کو کہنا

کہیں ملے تو اس کو کہنا کہیں ملے تو اس کو کہنا فصیلِ نفرت گرا رھا ھوں گئے دنوں کو بُھلا رھا ھوں وہ اپنے وعدے سے پھر گیا ھے میں اپنا وعدہ نبھا رھا ھوں کہیں ملے تو اس کو کہنا تنہا ساون بیتا چکا ھوں میں سارے ارماں جلا چکا ھوں جو شعلے بھڑکتے تھے خواہشوں کے وہ آنسوؤں سے بجھا چکا ھوں کہیں ملے تو اس کو کہنا نہ دل میں کوئی ملال رکھے ہمیشہ اپنا خیال رکھے تمام غم اپنے مجھ کو دے کے وہ میری خوشیاں سنبھال رکھے

محبت نام ہے میرا

محبت نام ہے میرا اگر چاہو گئے تم مجھ کو تمھاری سانس سے پہلے تمہاری جان بن جاؤں اگر دیکھو گئے تم مجھ کو تمہاری آنکھ سے پہلے تمھارے خواب بن جاؤں اگر سوچو گئے تم مجھ کو تمھارے پاؤں سے پہلے تمہاری راہ بن جاؤں محبت نام ہے میرا . مجھے تم سوچ کے دیکھو . . . !

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزُر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں دشنۂ غمزہ جاں سِتاں، ناوکِ ناز بے پناہ تیرا ہی عکسِ رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں حُسن اور اُس پہ حُسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم اپنے پہ اعتماد ہے، غیر کو آزمائے کیوں واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں ہاں وہ نہیں خُدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوں دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں روئیے زار زار کیا، کیجئے ہائے ہائے کیوں

دن گزر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

دن گزر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں زخم بھر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں کوچ کر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں ہم مکر جاینگے ، سرکار کوئی بات نہیں رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے ہنس کے مر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں نکل آئے ہیں عدم سے تو ججھکنا کیسا در بدر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

ایک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

ایک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئے! انجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپکی طرح ہنسیے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھئے وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھئے جلتے دئیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے ہم توبہ کر کے مر گئے قبل اجل خمار توہینِ مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جرم ہے ۔۔۔۔۔ پتا ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی ۔۔۔۔۔۔ موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں جس کے کارن فساد ہوتے ہیں اُس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے نُور سنسار سے گیا ہی نہیں

نِگاہِ لُطف مت اُٹھ ، خُوگرِ آلام رہنے دے

نِگاہِ لُطف مت اُٹھ ، خُوگرِ آلام رہنے دے ہمیں ناکام رہنا ہے، ہمیں ناکام رہنے دے کسی معصُوم پر بیداد کا اِلزام کیا معنی یہ وحشت خیز باتیں عشقِ بدانجام رہنے دے ابھی رہنے دے دل میں شوقِ شورِیدہ کے ہنگامے ابھی سر میں محبّت کا جنُونِ خام رہنے دے ابھی رہنے دے کچُھ دن لُطفِ نغمہ، مستئ صہبا ابھی یہ ساز رہنے دے، ابھی یہ جام رہنے دے کہاں تک حُسن بھی آخر کرے پاسِ وضع داری اگر یہ عشق خود ہی فرقِ خاص و عام رہنے بہ ایں رِندی، مجاز اک شاعرِ مزدور و دہقاں ہے اگر شہروں میں وہ بدنام ہے، بدنام رہنے دے

چاک پیراہنیِ گُل کو صبا جانتی ہے

چاک پیراہنیِ گُل کو صبا جانتی ہے مستیِ شوق کہاں بندِ قبا جانتی ہے ہم تو بدنامِ محبت تھے سو رُسوا ٹھہرے ناصحوں کو بھی مگر خلقِ خدا جانتی ہے کون طاقوں پہ رہا کون سرِ راہگزار شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے ہوس انعام سمجھتی ہے کرم کو تیرے اور محبت ہے کہ احساں کو سزا جانتی ہے

ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں

ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں مے چُھٹی، پر گاہے گاہے اب بھی بہرِ احترام دعوتِ آب و ہوا تسلیم کر لیتا ہوں میں بے وفا میں نے، محبّت سے کہا تھا آپ کو لیجیئے اب با وفا تسلیم کر لیتا ہوں میں جو اندھیرا تیری زلفوں کی طرح شاداب ہو اُس اندھیرے کو ضیا تسلیم کر لیتا ہوں میں جُرم تو کوئی نہیں سرزد ہوا مجھ سے حضور با وجود اِس کے سزا تسلیم کر لیتا ہوں میں جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدم رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

محے کو بےوفا سمجھ لیجئے

محے کو بےوفا سمجھ لیجئے جاودانی ادا سمجھ لیجئے میری خاموشئ مسلسل کو اِک مسلسل گِلہ سمجھ لیجئے آپ سے میں نے جو کبھی نہ کہا اُس کو میرا کہا سمجھ لیجئے جس گلی میں بھی آپ رہتے ہوں واں مجھے جا بہ جا سمجھ لیجئے آپ آ جایئے قریب مرے مجھ کو مجھ سے جُدا سمجھ لیجئے جو نہ پہنچائے آپ تک مجھ کو آپ اُسے واسطہ سمجھ لیجئے نہیں جب کوئی مدعا میرا کوئی تو مدعا سمجھ لیجئے جو کبھی حالِ حال میں نہ چلے اُس کو بادِ صبا سمجھ لیجئے جو کہیں بھی نہ ہو، کبھی بھی نہ ہو آپ اُس کو خدا سمجھ لیجئے

بس یہ سنتے ہی سخن ختم ہمارا ہو جائے

بس یہ سنتے ہی سخن ختم ہمارا ہو جائے واہ کیا کہنے بہت خوب دوبارہ ہو جائے رات بھر ہوتی رہے ٹوٹ کے دریا زاری یوں بغل گیر کنارے سے کنارا ہو جائے روز کرتا ہوں میں دنیا کے محلے میں خرام جانے کب کون سی چلمن سے اشارہ ہو جائے چاک سے ہو کے بھی صد چاک لیے پھرتا ہے جسم کی آخری خواہش ہے کہ گارا ہو جائے بد دعا مانگنے والے کی د عا کے صدقے ہر برا آدمی اللہ کو پیارا ہو جائے رزق تو خیر مری ثانوی ترجیح رہا عشق بھی اتنا کمایا کہ گزارا ہو جائے

اس شہر میں ایسی بھی قیامت نہ ہُوئی تھی

اس شہر میں ایسی بھی قیامت نہ ہُوئی تھی تنہا تھے مگر خود سے تو وحشت نہ ہُوئی تھی یہ دن ہیں کی یاروں کا بھروسا بھی نہیں ہے وہ دن تھے کہ دُشمن سے بھی نفرت نہ ہُوئی تھی اب سانس کا احساس بھی اِک بارِ گراں ہے خود اپنے خلاف ایسی بغاوت نہ ہُوئی تھی اُجڑے ہُوئے اس دِل کے ہر اِک زخم سے پوچھو اِس شہر میں کس کس سے محبت نہ ہُوئی تھی؟ اب تیرے قریب آ کے بھی کچھ سوچ رہا ہُوں پہلے تجھے کھو کر بھی ندامت نہ ہُوئی تھی ہر شام اُبھرتا تھا اِسی طور سے مہتاب لیکن دِل وحشی کی یہ حالت نہ ہُوئی تھی خوابوں کی ہَوا راس تھی جب تک مجھے محسن یوں جاگتے رہنا میری عادت نہ ہُوئی تھی

ندا فاضلی کا ایک شعر ہے جو دین بیزاروں کو بڑا مرغوب ہے وہ یوں کہ

ندا فاضلی کا ایک شعر ہے جو دین بیزاروں کو بڑا مرغوب ہے وہ یوں کہ ... . گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یو کرلیں کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے ندا فاضلی کے شعر کو عرفان خالد نے اپنی طرز پر سوچا گھر سے مسجد ہے اگر دور تو پھر یوں کر لو کسی ركشہ، کسی ٹم ٹم کی سواری لے لو کوئی ٹانگہ ہی پکڑ لو ، کوئی لاری لے لو فاصلہ گر ہو کئی میل خدا کے گھر کا آمد و رفت کی قیمت بھی تو دے سکتے ہو سائیکل کوئی کرائے پہ بھی لے سکتے ہو میکدے کے لئے جب گھر سے نکل سکتے ہو ایک بوتل کی توقع پہ بہل سکتے ہو ’’تم چراغوں کی طرح شام سے جل سکتے ہو‘‘ تم کو مسجد کی طرف پاؤں بڑھانے میں ہے عذر جام ومینا کے لئے آگ پہ جل سکتے ہو پھر یہ مسجد میں نہ جانے کا فسانہ کیا ہے ؟ خانۂ رب سے تغافل کا بہانہ کیا ہے ؟ تم ارادہ تو کرو ، راستے گھٹ سکتے ہیں فاصلے بیچ میں جتنے ہیں سمٹ سکتے ہیں یہ بھی گر کر نہ سکو ، گھر کے کسی گوشے میں سجدۂ شکر بجاؤ ، تلاوت کرلو چھپ کے دنیا کی نگاہوں سے عبادت کرلو یہ جو بچوں کو ہنسانے کی تمنا ہے تمہیں اس فسانے کو بھی اک روز حقیقت کر لو پھینک دو جام و سبو ، ساغر و مینا اپنے اور روتے ہوئے بچوں سے محبت کر لو ا...

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو ہے امانت میں خیانت سو کسی کی خاطر کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوس میں محسنؔ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

جنونِ عشق کی رسمِ عجیب، کیا کہنا

جنونِ عشق کی رسمِ عجیب، کیا کہنا, میں اُن سے دور، وہ میرے قریب، کیا کہنا یہ تیرگئ مسلسل میں ایک وقفۂ نور, یہ زندگی کا طلسمِ عجیب، کیا کہنا جو تم ہو برقِ نشیمن، تو میں نشیمنِ برق, الجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب، کیا کہنا ہجومِ رنگ فراواں سہی، مگر پھر بھی بہار، نوحۂ صد عندلیب، کیا کہنا ہزار قافلۂ زندگی کی تیرہ شبی یہ روشنی سی افق کے قریب، کیا کہنا لرز گئی تری لو میرے ڈگمگانے سے چراغِ گوشۂ کوئے حبیب، کیا کہنا

میں مغرور تو نہیں

Image
میں مغرور تو نہیں میرے اردگرد کے لوگ میرے قریب کے واسی کیوں چهوٹے لگتے هیں کوئی کاغذ چنتا بچاهو مکان بهی جن کا کچا هو دل کا سچا هوتا هے بس سوچنا مجهہ کو اتنا هے یہ سب هے جو فتنہ هے میرا رزق کہاں سے آتا هے ہم سب کو کون کهلاتا هے یہ سمجھ مجهے آتی ہی نہیں جب بندہ مرتا ہے سایئں ))))یہ غرور کہاں چلا جاتا هے )))))))

اٹھ شاہ حسینا ویکھ لے

اٹھ شاہ حسینا ویکھ لے اسی بدلی بیٹھے بھیس ساڈی جند نمانڑی کوکدی اساں رل گۓ وچ پردیس ساڈا ہر دم جی کرلاؤندا ساڈی نیر وگاوے اکھ اساں جیوندی جانیں مر گۓ ساڈا مادھو ھویا وکھ سانوں سپ سمے دا ڈنگدا سانوں پل پل چڑھدا زہر ساڈے اندر بیلے خوف دے ساڈے بیلے بنڑ گۓ شہر اساں شو غماں وچ ڈب گۓ ساڈی رڑ گئ نو پتوار ساڈے بولنڑ تے پابندیاں ساڈے سر لٹکے تلوار اساں نیناں دے کھوہ گیڑ کے کیتی وتر دل دی پاؤں اے بنجر رئ نمانڑی سانوں سجنڑ تیری سوہنہ اساں اتوں شانت جاپدے ساڈے اندر لگی جنگ سانوں چپ چپیتا ویکھ کے پۓ آکھنڑ لوک ملنگ اساں کھبے غم دے کھوبڑے ساڈے لمے ھوگۓ کیس پا تانڑے بانڑے سوچدے اساں بنڑدے ریندے کھیس ہنڑ چھیتی دوڑنڑیں بلھیا ساڈی سولی ٹنگی جان تینوں واسطہ شاہ عنایت دا ناں توڑنڑیں ساڈا مانڑ اساں پیریں پالۓ گھنگھرو ساڈے پاوے جند دھمال ساڈی جان لباں تے اپڑی ہنڑ چھیتی مکھ وکھال ساڈے سر تے سورج ہاڑدا ساڈے اندر سیت سیال بنڑ چھاں ہنڑ چیتر رکھ دی ساڈے اندر بھانبڑ بال اساں مچ مچایا عشق دا ساڈالوسیا اک اک لوں اساں خود نوں بھلے سانولا اساں ہر دم جپیا توں سانوں چنتا چخا چڑھانڑ دی ساڈے تڑکنڑ لگے ہڈ پھڑ لیکھاں برچھ...
Image
اے لمحہ ناراض کبھی مل تو سہی اس زمانے سے الگ ھو کے گزاروں تجھ کو

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ۔

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ۔ ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کر غمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کر یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر اور ضبط کہے فریاد نہ کر پامال نہ کر، برباد نہ کر مظلوم پہ یوں بیداد نہ کر اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کر چھوڑ ایسی خوشی کویادنہ کر۔۔۔۔ نادان ہیں ہم، ناشاد نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان خوابوں سے یوں آزادنہ کر۔۔۔۔۔۔۔ کہتی ہے حیا فریاد نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعمیر نہ کر، آباد نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔ اے عشق ہمیں برباد نہ ک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔