Posts

Showing posts with the label QATEEL SHIFAI

جب تصور مرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

Image
جب تصور مرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے اپنی ہر سانس سے مجھ کو تِری خوشبو آئے مشغلہ اب ہے مرا چاند کو تکتے رہنا رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے پیار نے ہم میں کوئی فرق نہ چھوڑا باقی جھیل میں عکس تو میرا ہو، نظر تو آئے جب کبھی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کو مری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازو آئے جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہو گی روشن مجھ کو سمجھانے تِری یاد کے جگنو آئے کتنا حساس مری آس کا سنّاٹا ہے کہ خموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگرو آئے مجھ سے ملنے کو سرِشام کوئی سایہ سا تیرے آنگن سے چلے اور لبِ جو آئے اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔ وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے. "قتیل شفائی "

دیتے ہیں اجالے میرے سجدوں کی گواہی

دیتے ہیں اجالے میرے سجدوں کی گواہی میں چھپ کے اندھیروں میں عبادت نہیں کرتا دنیا میں قتیل اُس سا منافق نہیں کوئ  جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو  سو رہے ہیں درد، ان کو مت جگاؤ، چُپ رہو  رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر  صبح ہونے تک نہ بولو ہم نواؤ ، چُپ رہو  بند ہیں سب میکدے، ساقی بنے ہیں محتسب  اے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ ، چُپ رہو  تم کو ہے معلوم آخر کون سا موسم ہے یہ  فصلِ گل آنے تلک اے خوشنواؤ ، چُپ رہو  سوچ کی دیوار سے لگ کر ہیں غم بیٹھے ہوئے  دل میں بھی نغمہ نہ کوئی گنگناؤ ، چُپ رہو  چھٹ گئے حالات کے بادل تو دیکھا جائے گا  وقت سے پہلے اندھیرے میں نہ جاو ، چُپ رہو  دیکھ لینا، گھر سے نکلے گا نہ ہمسایہ کوئی!  اے مرے یارو، مرے درد آشناؤ ، چُپ رہو  کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ!  اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھاؤ ، چُپ رہو

Sookhe pokhar, banjar dharti, neer bhaye ban-chhaoN

Sookhe pokhar, banjar dharti, neer bhaye ban-chhaoN MiTTi miTTi lagta hai ab soona – soona gaaoN Kutte jaise haaNp rahe hain piichhe piichhe log Aage al-lhaR si ek laRki, Jeevan jis ka naaoN* ShahroN ke andaaz kahaaN sah paayega dehaat Gili kachchi pagdandi par, mat rakhiyega paaoN Gori rangat, kaali zulfeiN, teekhay sab aakaar Uska sab kuchh yad hai mujhko, bhuluN apna naaoN Mamta ka dhan baaNT rahi hai saari kachli naar Gobar-gobar haath haiN jiske, kichaR-kichhaR paaoN SaaNjh bhayii, sab revaR pahunche apne apne Thor Ek ‘Badnam’ phire aawaara, jis ka ghar na gaaoN