چاک پیراہنیِ گُل کو صبا جانتی ہے






چاک پیراہنیِ گُل کو صبا جانتی ہے
مستیِ شوق کہاں بندِ قبا جانتی ہے
ہم تو بدنامِ محبت تھے سو رُسوا ٹھہرے
ناصحوں کو بھی مگر خلقِ خدا جانتی ہے
کون طاقوں پہ رہا کون سرِ راہگزار
شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے
ہوس انعام سمجھتی ہے کرم کو تیرے
اور محبت ہے کہ احساں کو سزا جانتی ہے

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو