Posts

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ

اک آن سے اس نے پوچھا تھا کیا ہار کی بازی کھیلو گی؟

آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

کرو توبہ ستم پہ وہ زرا بھی جو جھجک جاوے

وہ جذبوں کی تجارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا

کہا تھا ناں

اپنی خاطر جگے ہو سوئے ہو

ملتا اگر میرے عشق کو بھی اختیار کچھ دیر

کوئی احساس مکمل نہیں رہنے دیتا