کوئی احساس مکمل نہیں رہنے دیتا



کوئی احساس مکمل نہیں رہنے دیتا 

درد کا ساتھ مسلسل نہیں رہنے دیتا ہ

وش کی سرد نگاہوں سے تکے جاتا ہے 

کون ہے جو مجھے پاگل نہیں رہنے دیتا 

کس قدر شور ہے رنگوں کا مری آنکھوں میں 

عکس کا ایک تسلسل نہیں رہنے دیتا

وقت طوفانِ بلاخیز کے گرداب میں ہے 

سر پہ میرے مرا آنچل نہیں رہنے دیتا 

ہاتھ پھیلاؤں تو چھُو لیتا ہے جھونکے کی طرح

ایک پل بھی مجھے بے کل نہیں رہنے دیتا 

خواب کے طاق پہ رکھی ہیں دو آنکھیں کب سے

وہ مری نیند مکمل نہیں رہنے دیتا 

میرے اِس شہر میں اِک آئینہ ایسا ہے کہ جو 

مجھ کو اُس شخص سے اوجھل نہیں رہنے دیتا

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو