Posts

شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ

شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ.....!! "اے ماؤں، اپنے اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہو۔ چاہے کتنا ہی غصہ کیوں نہ ہو اُن کیلئے منہ سے خیر کے کلمے ہی نکالا کرو۔ اولاد کو لعن طعن، سب و شتم اور بد دعائیں دینے والی مائیں سُن لیں کہ والدین کی ہر دُعا و بد دُعا قبول کی جاتی ہے۔" یہ سب باتیں شیخ صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں اپنے بچپن کی باتیں دہراتے ہوئے فرمائیں۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ...!! ایک دفعہ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عُمر لڑکوں کی طرح شرارتی اور چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا۔ مگر ایک دن شاید غلطی اور شرارت ایسی کر بیٹھا کہ اُسکی ماں کو طیش آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا (غصے سے بپھر جانے والی مائیں الفاظ پر غور کریں) لڑکے کی ماں نے کہا؛ "چل بھاگ اِدھر سے، اللہ تجھے حرم شریف کا اِمام بنائے۔" "یہ بات بتاتے ہوئے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے، ذرا ڈھارس بندھی تو رُندھی ہوئی آواز میں بولے؛ اے اُمت اِسلام، دیکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوا ہوں تمہارے سامنے اِمام ِ کعبہ عبدالرحمٰن السدیس.." اللہ اَکبر، اگر وہ شرارتی لڑکا شیخ عبدالرحمٰن السدیس حفظہ اللہ صاحب بذ...

ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯽ ﮨﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ،

ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯽ ﮨﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ، ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮩﯿﮟ _____ ﮐﺮﻧﯽ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ، ﺁﺭﺯﻭ ______ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ ﺍﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﻝ ﺑﮭﯽ ____ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ _____ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﺮﺍ _____ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻭٖﺿﻮ _____ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ ﺍﺏ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ _____ ﺩﻻﺅﮞ گا ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺑﺮﻭ ______ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ

سارے مرنے والوں پر موت تو نہیں آتی

Image
سارے مرنے والوں پر موت تو نہیں آتی ہر کسی کے جینے کو زندگی نہیں کہتے زر پرست سورج کی تیز دھار کِرنوں کو تیز دھوپ کہتے ہیں روشنی نہیں کہتے فاصلے بتاتے ہیں رِشتہ کتنا گہرا ہے ساتھ کھانے پینے کو دوستی نہیں کہتے لفظ خود اُترتے ہیں ڈھونڈنے نہیں پڑتے قافیے ملانے کو شاعری نہیں کہتے

ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ

ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﮯ ﺣﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﻨﺖ ﮨﮯ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﯾﮧ ﺳﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺩ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺐ ﮈﮐﺎﺭ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻃﺎﻕ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

مسئلہ کشمیر

Image
82ء میں جنرل ضیاء ایک کانفرنس میں شرکت کرنے انڈیا پہنچے ۔ اس کانفرس میں دنیا کے 80 ممالک کے سربراہان شریک تھے ۔ صدارت اندرا گاندھی کر رہی تھیں ۔ جنرل ضیاء نے اندرا گاندھی کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی تقریر میں کہا کہ " مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کے مطابق حل کرنا چاہئے ۔" ۔۔ جنرل کی یہ بات سن کر اندرا گاندھی اپنی صدارت کی نشست سے اٹھ کر چلی گئیں اور اپنی جگہ یاسر عرفات کو بیٹھا دیا۔ دوسرے دن پورے انڈین پریس کی 8 کالمی سرخی تھی کہ " صدر ضیاء نے کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھا دیا " ۔۔ کچھ نے لکھا کہ " دھماکہ کر دیا " کسی نے لکھا " بہت زیادتی کی " ۔۔ تین دن تک انڈین اخبارات ضیاء کے خلاف اور کشمیر کے حوالے سے سرخیوں اور اداریوں سے بھرے رہے ۔ تیسرے روز کانفرنس کے تشہیر کے شعبہ کے انچارج ایڈیشنل سیکٹری خارجہ مانی شنکر آئر نے بھارتی اخبارات کے اڈیٹروں کو بلایا اور کہا کہ " پلیز آپ لوگ جنرل ضیاء کا تذکرہ کرنا بند کر دیں ۔ آپ سارے جنرل صاحب کی مرضی کے مطابق ردعمل دے رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں اور دنیا کے 80 ممال...

جو مِلے-------------------اِس میں کاٹ لیں گے ہم

جو مِلے-------------------اِس میں کاٹ لیں گے ہم تُھوڑی خُوشیاں تُھوڑے آنسو بانٹ لیں گے ہم

پہلے پہل اس سے میری گفتگو تھی بس،

پہلے پہل اس سے میری گفتگو تھی بس، پھر یوں ہوا کہ وہ میرے لہجے میں آگیا...!!