سارے مرنے والوں پر موت تو نہیں آتی



سارے مرنے والوں پر موت تو نہیں آتی
ہر کسی کے جینے کو زندگی نہیں کہتے
زر پرست سورج کی تیز دھار کِرنوں کو
تیز دھوپ کہتے ہیں روشنی نہیں کہتے
فاصلے بتاتے ہیں رِشتہ کتنا گہرا ہے
ساتھ کھانے پینے کو دوستی نہیں کہتے
لفظ خود اُترتے ہیں ڈھونڈنے نہیں پڑتے
قافیے ملانے کو شاعری نہیں کہتے

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو