Get link Facebook X Pinterest Email Other Apps By Maqsood Awan - March 25, 2014 ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہو تا ہے کیا قافلے میں صبح کے اک شور ہے یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں تخم خواہش دل تو بوتا ہے کیا یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا Get link Facebook X Pinterest Email Other Apps Comments
Comments
Post a Comment