میں بھی حاضر تھا وہاں ضبطِ سخن کر نہ سکا حق سے جب حضرتِ مُلا کو مِلا حُکمِ بہشت عرض کی میں نے الٰہی مری تقصیر معاف خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لبِ کشت نہیں فردوس مقامِ جدل و قال و اقوال بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت ہے بدآموزیء اقوام و مِلل کام اس کا اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کُنِشت

Comments

Popular posts from this blog

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو