عجیب حالتِ دل ہو گئی



عجیب حالتِ دل ہو گئی
رہائی کے وقت کلیدِ قفلِ قفس کھو گئی
رہائی کے وقت بڑے رفیق تھے،
پر با وفا تھی تنہائی جو اپنے ساتھ ہی گھر کو گئی
رہائی کے وقت تمام رات رہائی کا انتظار کیا
نصیب جاگے، سحر سو گئی
رہائی کے وقت مزاجِ تیرگی سے
ہم پہ یہ مآل کھلا گلے ملی تو ہمیں رو گئی
رہائی کے وقت دمِ رہائی ہمیں کوئی غم نہ تھا اختر
مگر وہ بزمِ طرب جو گئی رہائی کے وقت (

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو