بات میری کبھی سنی ہی نہیں جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں


بات میری کبھی سنی ہی نہیں جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں 

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

لطفِ مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کمبخت تُو نے پی ہی نہیں

اُڑ گئی یوں وفا زمانے سے کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

جان کیا دوُں کہ جانتا ہوں میں تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں دل لگی، 

دل لگی نہیں ناصح تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

داغ کیوں تُم کو بے وفا کہتا وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں۔۔۔!!

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو