نہیں زمیں پہ کسی کا بھی اعتبار مجھے



نہیں زمیں پہ کسی کا بھی اعتبار مجھے
کہا تھا کس نے کہ افلاک سے اتار مجھے
بہ سطحِ کوزہ گرِ دہر چیختا ہے کوئی
میں جیسے حال میں ہوں چاک سے اتار مجھے
بس ایک دن کے لئے تو مری جگہ آ ج
بس ایک دن کے لئے سونپ اختیار مجھے
تجھے کہا تھا کہ لو دے اٹھے گی لاش مری
تجھے کہا تھا کہ تو روشنی میں مار مجھے
تری صدا کے پلٹنے سے قبل پہنچوں گا
تو ایک بار بہ جذبِ جنوں پکار مجھے
کبھی تو ماں کی طرح ٹوٹ کر ملے اختر
کبھی تو دوڑ کے سینے لگائے دار مجھے

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو