عشق دربار سجاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں

عشق دربار سجاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
پھر سردار بلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
.
اک لہجہ کسی بھیگی ہوئی خوشبو کی طرح
صبح کے ساتھ جگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
.
آخر شام کوئی عشق کا پاگل لمحہ
جب ہمیں پاس بلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
.
دور تک پھیلی ہوئی برف کا شفاف بدن
دل میں اک آگ لگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
.
شب کی پازیب سے الجھا ہوا ہی گھنگھرو
وصل کے گیت سناتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
.
گرمی لمس کی شدت سے دہکتا آنچل
ایک دیوار اٹھاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو