Search This Blog
A Collection of Great Poetry, Novels,Pictures,videos and Softwares...
- Get link
- X
- Other Apps
Labels
امام شافعی رحمتہ اللہ فرماتے ہے کہ میں امام مالک رحمتہ اللہ کو ڈھونڈنے مسجد نبوی میں داخل ہوا تو سامنے ہی ایک اونچے قد والا انسان شاگردوں کو حدیث کی درس دیں رہا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہی امام مالک ہے اس وقت امام صاحب شاگردوں کو ساتھ ساتھ املاء بھی کرارہے تھے تمام شاگرد حدیث پاک سن کر لکھ رہے تھے میں چونکہ مسافر تھا میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا، قریب ہی ایک تنکا پڑا ہوا تھا میں نے وہ اٹھایا اور تنکے سے ہاتھ کی ہتھیلی پر لکھنا شروع کیا،جب نماز کا وقت ہوا تو امام صاحب نے درس حدیث موقوف کردی۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی نظریں مجھ پر پڑی تو پوچھا بھئ یہ کیا کررہے ہو آپ۔ میں نے کہا میں اپنی ہتھیلی پر حدیث لکھ رہا ہوں، انہوں نے ہاتھ دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا، فرمایا حضرت حلاف ادب کام ہے یہ، میں نے کہا حضرت میرے پاس قلم نہ تھی تنکا تھا میں ہتھیلی پر نہیں دراصل دل پر لکھ رہا تھا اور حدیث والوں کے ساتھ بیٹھ کر اسلیئے لکھنا شروع کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جو جس قوم کی مشابہت اختیار کریں گا تو وہ ان میں ہی شمار ہوگا،" امام مالک نے کہا سبحان اللہ ۔ اچھا تو کچھ یاد بھی ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ کہتے ہے کہ میں نے کہا حضرت جو درس آپ نے دیا سب یاد ہے۔ امام مالک نے فرمایا ہم نے ایک سو سے زیادہ حدیثں املاء کرائی ہے ان میں آدھی بھی تم سنا دو تو بہت اچھی بات ہوگی" امام شافعی کا فرمان ہے کہ امام مالک نے تو آدھی احادیث کہی میں نے ایک نمبر سے لیکر آخری حدیث تک متن اور سند سمیت سنا دی۔"
Popular Posts
Posted by
Maqsood Awan
مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment