راحت اندوری



وح بھی چلتی تھی تو وہ بادِ صبا کہتے تھے
پاؤں پھیلائے ،اندھیروں کو ضیا کہتے تھے

ان کا انجام تجھے یاد نہیں ہے شاید
اور بھی لوگ تھے جو خود کو خدا کہتے تھے


راحت اندوری

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍِﮎ ﮐُﻮﭼﮯ ﻣﯿﮟ, ﺍِﮎ ﺍﻧﺸﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎ