اردو شاعری
وہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھے
ہنس کر بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ھے
اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے رب سحر
ڈوبتا چاند میرا دست ہنر لگتا ھے
جس سے منہ پھیر کے رستے کی ھوا گزری ھے
کسی اجڑے ھوئے آنگن کا دیا لگتا ھے
اب کے ساون میں بھی زردی نہ گئی چہروں کی
ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ھے
شہر کی بھیڑ میں کھلتے ھیں کہاں اس کے نقوش
آؤ تنھائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ھے
منہ چھپائے ھوئے گزرا ھے جو احباب سے آج
اس کی آنکھوں میں بھی کوئی زخم نیا لگتا ھے
اب تو"محسن" کے تصور میں اتر رب جلیل
اس اداسی میں تو پتھر بھی خدا لگتا ھے
Search This Blog
A Collection of Great Poetry, Novels,Pictures,videos and Softwares...
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Posted by
Maqsood Awan
مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment