جنــــابِ علـی ارمـؔـان سنگ زن ساری خدائی ہے 'خدا جانتا ھـے ہم نے کس طرح نبھائی ہے 'خدا جانتا ھـے یہ جو مصرع میں چمکتا ہے نمک آنسوؤں کا زندگــی بھر کی کـمائـی ہے' خدا جانتا ھــے شورِکم ظرف سے سہمے ہوئے سنّاٹے میں کس طرح بـات بنـائـی ھــے' خدا جانتـا ھـے دشت میں نام کمانا نہیں آسان میاں! عمر بھر خاک اڑائی ہے' خدا جانتا ہے کسی منزل پہ پہنچنے نہیں دیتی جو مجھے لذّت ِ آبلہ پائی ہے' خدا جانتا ہے یہ جو ہے حلقہءِ درویشاں میں عزّت صاحب! رقص کر کر کے کمائی ہے خدا جانتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو