میں ان سب سے مخاطب ہوں
جو پچھلی رات کو دیکھا ہوا ہر خواب
دن میں یاد رکھتے ہیں
خود اپنے آپ پر
تازہ ستم ایجاد رکھتے ہیں
میں ان سے بھی مخاطب ہوں
کہ جن کا خواب انکی آرزو کا استعارہ ہے
تمنا کے فلک پر
جگمگاتا اک ستارہ ہے
جو اپنے خواب کی تصویر میں تحریر رہتے ہیں
سدا زنجیر رہتے ہیں
کہ جیسے میں
جو خود بھی خواب بنتا ہوں
میں جو بھی چاہتا ہوں
پہلے اس کو خواب میں تصویر کرتا ہوں
پھر اپنے آپ کو اس میں تحریر کرتا ہوں
پھر اس تحریر کو تعبیر دینے
دن میں آتا ہوں
اور اپنی عمر کے سب دن
میں ایسے دن میں رہتا ہوں
جو اپنی شام سے محروم رہتا ہے
Search This Blog
A Collection of Great Poetry, Novels,Pictures,videos and Softwares...
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
Posted by
Maqsood Awan
مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment