شام کے اُجالوں پر اپنے نرم ہاتھوں سے کوئی بات اچھی سی کوئی خواب سچا سا کوئی بولتی خوشبو کوئی سوچتا لمحہ جب بھی لکھنا چاہو گے سوچ کے دریچوں سے یاد کے حوالوں سے میرا نام چھپ چھپ کر تم کو یاد آئے گا ہاتھ کانپ جائیں گے شام ٹھہر جائے گی۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ ـــــ برہوں دی رڈک پوے

" جے رب ملدا نہاتیاں دھوتیاں

ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍِﮎ ﮐُﻮﭼﮯ ﻣﯿﮟ, ﺍِﮎ ﺍﻧﺸﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎ